نئی دہلی،21؍ فروری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)عام آدمی پارٹی نے دہلی حکومت کے چیف سکریٹری انشوپرکاش کے ساتھ پارٹی ممبران اسمبلی کی مبینہ مارپیٹ کے معاملے میں دہلی پولیس اور مرکزی حکومت پر یک طرفہ کارروائی کرنے کا الزام لگایا ہے۔آپ لیڈر سنجے سنگھ اور آشوتوش نے مرکزی حکومت پر آپ کے ساتھ سوتیلا برتاؤ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پولیس نے پرکاش کی زبانی شکایت پر ایف آئی آر درج کر کے پارٹی کے دو اراکین اسمبلی کو گرفتار بھی کر لیا جبکہ آپ حکومت کے وزیر اور ممبران اسمبلی کی شکایات پر اب تک کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔اتنا ہی نہیں وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بھی یکطرفہ بات سن کر لیفٹیننٹ گورنر سے اس معاملے کی رپورٹ طلب کر لی لیکن آپ لیڈروں کو ملنے کا بھی وقت نہیں دے رہے ہیں۔چیف سکریٹری انشو پرکاش کی طبی رپورٹ میں چوٹ لگنے کی تصدیق ہونے کے سوال پر آشوتوش نے کہا کہ واقعہ کے تین دن بعد پرکاش نے میڈیکل جانچ کیوں کرائی، جبکہ حملے کا شکار ہونے والا شخص فوری طورپرپولیس کی پناہ میں جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس دہلی حکومت کے وزیر اور ممبر اسمبلی پر حملے کے ویڈیو فوٹیج سامنے آنے کے بعد بھی پولیس کوئی کارروائی نہیں کر رہی ہے۔وزیر اعلی کی طرف سے نصف شب میں اجلاس بلانے کے جواز کے سوال پر سنگھ نے کہا کہ اجلاس کا مقررہ وقت رات دس بجے تھا لیکن انشوپرکاش دو گھنٹے دیر سے پہنچے تھے۔یہ بات وہ چھپا رہے ہیں۔سنگھ نے اشتہارات معاملے پر اجلاس طلب کرنے کے انشوپرکاش کے دعوے کو غلط بتاتے ہوئے کہا کہ اجلاس راشن کی تقسیم کے معاملے پر بلایا گیا تھا۔جہاں تک رات میں اجلاس بلانے کا سوال ہے تو اس کی وجہ صاف ہے کہ کیجریوال حکومت جھارکھنڈ میں راشن کی کمی کی وجہ سے ایک بچی کی ہوئی موت جیسے واقعات دہلی میں نہیں ہونے دینا چاہتی ہے۔آپ لیڈروں نے پارٹی کے ممبران اسمبلی کی گرفتاری پر کہا کہ پولیس نے کس کے اشارے پر ایک دلت اور اقلیتی رکن اسمبلی کو گرفتار کیا ہے؟ اسے دلت اور اقلیتی سیاست سے شامل کرنے کے سوال پر سنگھ نے کہاکہ یہ دلت یا اقلیت کے نام پر سیاست کرنے کی کوشش نہیں ہے بلکہ یہ سچ سے روبرو کرانے کی کوشش ہے۔سچ یہ ہے کہ جہاں جہاں بی جے پی کی حکومتیں ہیں وہاں دلت ہراساں کرنے کی وارداتیں مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت دلت اور اقلیتوں کو دبانے کے لیے مسلسل جابرانہ کارروائیاں کر رہی ہے۔اس واقعہ کے پیچھے مرکزی حکومت کی سازش بتاتے ہوئے آشوتوش نے کہا کہ حال ہی میں سامنے آئے تمام گھوٹالوں سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے یہ کیس سوچی سمجھی گئی حکمت عملی کے تحت سامنے لایا گیا۔انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ مرکزی حکومت کے اشارے پر دہلی پولیس کی بدنیتی پر مبنی طریقے سے کی جا رہی کارروائی کا نتیجہ ہے۔پورا واقعات اور واردات کے ثبوتوں سے یک طرفہ کارروائی کا سچ اجاگر ہوا ہے اور اسی سے مرکزی حکومت کی نیت پر سوال کھڑے ہو رہے ہیں۔